Wednesday, March 2, 2016

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی مدظلہ کے خلفائے کرام کی فہرست اور مختصر تعارف:

حضرت مولانا صاحبزادہ سیف اللہ مدظلہ جھنگ
حضرت مولانا صاحبزادہ سیف اللہ مدظلہ جھنگ
حضرت مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور مدظلہ کراچی
حضرت مولانا احمد جان مدظلہ روس
حضرت مولانا مفتی انعام الحق مدظلہ انڈیا
تعارف
حضرت مولانا اسلم پوریؒ لاہور
تعارف
حضرت مولانا محمد امجد مدظلہ لاہور
تعارف
حضرت مولانا حاٖٖفظ محمد ابراہیم مدظلہ لاہور
تعارف
حضرت مولانا شیخ اظہر اقبال مدظلہ کراچی
تعارف


حضرت مولانا احسان الحق بہاولپوری مدظلہ بہاولپور
حضرت مولانا احمد دین مدظلہ گھوٹکی سندھ
حضرت حافظ انعام اللہ جاوید مدظلہ گوجرانوالہ
حضرت مولانا الیاس مدظلہ کراچی
حضرت شیخ احمد مدظلہ امریکہ
حضرت مولانا مفتی آفاق مدظلہ اٹک
حضرت مولانا ابراہیم کڈوا مدظلہ  مدینہ شریف
حضرت مولانا ابو بکر مدظلہ  مدینہ شریف
حضرت مولانا امام شامل مدظلہ  ساؤتھ افریقہ
حضرت مولانا ایوب مدظلہ  زمبابوے
حضرت مولانا شیخ ارسلان مدظلہ لاہور
حضرت مولانا محمد ایوب سورتی صاحب انگلینڈ
حضرت مولانا مفتی ایوب کشمیری مدظلہ سرینگر کشمیر
حضرت مولانا محمد بلال مدظلہ کینیا
حضرت مولانا تیشہ بابا مدظلہ  روس
شیخ الحدیث حضرت مولانا تقی الدین ندوی مدظلہ العین
حضرت مولانا شیخ توقیر مدظلہ دبئی
حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد جعفر مدظلہ جھنگ
حضرت مولانا حافظ جنید مدظلہ ساؤتھ افریقہ
حضرت مولانا حاکم جان مدظلہ روس
حضرت مولانا مفتی حماد مدظلہ لاہور
شیخ الحدیث حضرت مولانا حبیب اللہ مدظلہ جھنگ
حضرت مولانا محمد حسین آزادؒ   ملتان
حضرت مولانا شیخ حسین عبدالستار مدظلہ  امریکہ
حضرت مولانا ڈاکٹر حماد طفیل مدظلہ طائف
حضرت مولانا حماد محمود مدظلہ اسلام آبا
حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمٰن مدظلہ انڈیا
حضرت مولانا خلیل الرحمٰن انوری مدظلہ فیصل آباد
حضرت مولانا مفتی خالق یار مدظلہ وزیرستان
حضرت شیخ خالد عبد الستار مدظلہ امریکہ
حضرت مولانا راویل تاج الدین مدظلہ  روس
حضرت مولانا رحمت اللہ( مرحوم) مدظلہ مقبوضہ کشمیر
حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ حاصل پور
حضرت مولانا ڈاکٹر پروفیسر محمد سلیم مدظلہ  لاہور
حضرت مولانا سردار شاہ مدظلہ لاہور
حضرت مولانا سجاد احمد مدظلہ لاہور
حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی مدظلہ انڈیا
حضرت مولانا حافظ محمد سہیل عرفان مدظلہ لاہور
حضرت مولانا سجاد سکھیرا مدظلہ لاہور
حضرت مولانا سعد اللہ مدظلہ بنوں
حضرت مولانا سیف اللہ جان مدظلہ بنوں
حضرت مولانا سلیمان مدظلہ بنوں
حضرت مولانا ساجد عثمان مدظلہ کراچی
حضرت مولانا سیف الرحمٰن درخواستی مدظلہ گوجرانوالہ
مولانا سیف الرحمٰن قاسم مدظلہ
حضرت مولانا  حاجی محمد سعید مدظلہ گوجرانوالہ
حضرت مولانا سلیمان چوکسی مدظلہ افریقہ
حضرت مولانا ڈاکٹر شاہد اویس مدظلہ لاہور
ڈاکٹر شہزاد اویس مدظلہ لاہور
مولانا مفتی شاکر الرحمٰن مدظلہ فیصل آباد
حضرت مولانا شفیق الرحمٰن مدظلہ راولپنڈی
حضرت مولانا قاری شبیر مدظلہ چترال
حضرت مولانا شیخ محمد شریف ایرانی مدظلہ ایران
حضرت مولانا مفتی محمد شریف فانی مدظلہ امریکہ
حضرت مولانا محمد شفیع ندوی مدظلہ انڈیا
حضرت مولانا مفتی شکیل مدظلہ انڈیا
حضرت حاجی محمد صدیق مدظلہ(چک 390) سمندری
حضرت مولانا  صلاح الدین سیفی مدظلہ انڈیا
حضرت مولانا طاہر معاویہ مدظلہ اسلام آباد
حضرت مولانا سید محمد طلحہ قاسمی مدظلہ انڈیا
حضرت مولانا مفتی محمد طیب مدظلہ باغ
حضرت مولانا ڈاکٹر طارق بھٹی مدظلہ دبئی
حضرت مولانا شیخ طفر الاسلام مدظلہ جھنگ
حضرت مولانا طفر اقبال مدظلہ ڈیرہ اسماعیل خان
حضرت مولانا عبدالحلیم مدظلہ روس
حضرت مولانا عمر خان مدظلہ روس
حضرت مولانا عبداللہ مدظلہ(سفرنامے والے) روس
حضرت شیخ عثمان داغستانی مدظلہ روس
حضرت مولانا عاطف خان مدظلہ لاہور
حضرت مولانا عبدالرحمٰن مدظلہ لاہور
حضرت مولانا مفتی عبدالحفیظ مدظلہ لاہور
حضرت مولانا مفتی حافظ عاطف مدظلہ لاہور
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالرزاق مدظلہ بنوں
حضرت مولانا مفتی عمان مدظلہ کوہاٹ
حضرت مولانا مفتی محمد علی مدظلہ مردان
حضرت مولانا مفتی عبدالوہاب مدظلہ جھنگ
مولانا قاری عبدالرحمٰن مدظلہ جھنگ
حضرت قاری محمد عبداللہ ملتانی مدظلہ ملتان
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن شاہ مدظلہ بہاولپور
حضرت مولانا عبدالمومن مدظلہ سنبھل انڈیا
حضرت مولانا مفتی عبدالرحمٰن مدظلہ انڈیا
حضرت مولانا مفتی محمد عاصم مدظلہ بہاول نگر
حضرت مولانا عبدالوہاب شاہؒ حاصل پور
حضرت مولانا قاری عطااللہ مدظلہ ماموں کانجن
حضرت مولانا مفتی عبدالوہاب مدظلہ سکھر روہڑی
حضرت مولانا  عبدالمتکبر مدظلہ لورا لائی بلوچستان
حضرت مولانا حاجی عبدالقیوم مدظلہ دبئی
حضرت مولانا مفتی عبدالخالق مدظلہ برما
حضرت مولانا  ڈاکٹر محمد عمر حسینی مدظلہ امریکہ
حضرت شیخ عبدالقادر مدظلہ نائیجیریا
حضرت مولانا عندلیب مدظلہ زمبابوے
حضرت حافظ عبدالرشید مدظلہ کینیڈا
حضرت مولانا ڈاکٹر عمر مدظلہ زیمبیا
حضرت مولانا صاحبزادہ عبدالقدوس مدظلہ چکوال
حضرت مولانا عمر عزیز بابر مدظلہ لاہور
حضرت مولانا غلام محمد ؒ لیہ
حضرت مولانا مفتی غلام رسول مدظلہ مظفر آباد
حضرت مولانا فیصل مرزا مدظلہ لاہور
حضرت مولانا خواجہ فضل ولی شہیدؒ بنوں
حضرت مولانا فاروق مدظلہ سرگودھا
حضرت شیخ فقیر محمد کھوکھر مدظلہ امریکہ
حضرت مولانا محمد قاسم منصور مدظلہ اسلام آباد
حضرت مولانا  قاری کلیم اللہ مدظلہ انڈیا
حضرت مولانا قطب الدین ملا مدظلہ انڈیا
حضرت مولانا مفتی کمال الدین مدظلہ لاہور
حضرت مولانا سید کاشف کریم مدظلہ ریاض
حضرت مولانا گل رئیس مدظلہ بنوں
حضرت مولانا  مقصود اسلم مدظلہ کرک
حضرت مولانا  ڈاکٹر محمد محسن مدظلہ جھنگ
حضرت مولانا حافظ مدثر عرفان مدظلہ ڈیرہ غازی خان
حضرت مولانا حافظ منیر احمد مدظلہ کراچی
حضرت مولانا  شیخ مشتاق احمد مدظلہ امریکہ
حضرت مولانا مصطفی کمال مدظلہ سعودی عرب
حضرت مولانا حافظ محمد میاں مدظلہ ساؤتھ افریقہ
حضرت مولانا موسیٰ اکوڈی مدظلہ ساؤتھ افریقہ
حضرت شیخ معز حسن مدظلہ امریکہ
حضرت مولانا نذیر مدظلہ موزمبیق
حضرت مولانا ڈاکٹر نثار احمد مدظلہ اسلام آباد
حضرت مولانا حافظ نصیر احمد مدظلہ راولپنڈی
حضرت مولانا پروفیسر نصیر الدین مدظلہ اسلام آباد
حضرت ڈاکٹر ندیم قریشی مدظلہ امریکہ
حضرت مولانا مفتی محمد یوسف مدظلہ لاہور
حضرت مولانا قاری محمد یوسف مدظلہ بنوں
حضرت مولانا قاری محمد یٰسین مدظلہ صادق آباد
شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی یوسف مدظلہ کراچی
حضرت مولانا  مفتی محمد اسلم مدظلہ راولپنڈی
مکمل تحریر >>

حضرت مولانا مفتی ابولبابہ شاہ منصور مدظلہ (کراچی)


بینادی طور پر وادی نیلم کے رہنے والے ہیں۔علامہ انور شاہ کشمیریؒ حضرت مفتی صاحب کے دادا کے بھائی تھے۔مفتی صاحب کے والد ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوگئے۔مفتی صاحب کی پیدائش کراچی ہی میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے حاصل کی اور یہیں سے مفتی ولی حسن ٹونکیؒ کے پاس دورہ حدیث کیا۔تخصص جامعہ فاروقیہ میں مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ سے کیا۔پھر وہیں افتاء کے شعبےمیں خدمات سرانجام دیتے رہے۔اب تقریباً 15 سال سے جامعۃ الرشید میں بڑی محنت ، مجاہدے اور سرگرمی سے دین کے کئی شعبوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔حضرت جی دامت برکاتہم کی صحبت میں رہنے کے لیے عموماً رمضان کے آخری عشرے میں معہد الفقیر تشریف لاتے ہیں۔بعض اوقات عید الفطر بھی یہیں گزارتے ہیں۔اپنی اصلاح و تربیت کے لیے شیخ کی خانقاہ کی مختلف خدمات بھی سر انجام دیتے ہیں۔سنا گیا ہے کہ بعض اوقات رات کو اٹھ کر شیخ کی خانقاہ کے باتھ روموں کی صفائی بھی شروع کر دیتے ہیں۔اس طرح اپنے آپ کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی میں مٹانے کی توفیق عطا فرمائے۔

مٹا  دے اپنی  ہستی  کو  اگر  کچھ  مرتبہ  چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کئ گل و گلزار ہوتا ہے

کئی سال خانقاہ میں حضرت شیخ کی صحبت میں آتے جاتے رہے۔معمولات کی پابندی کرتے رہے۔اپنے حالات و کیفیات سے حضرت شیخ کو مطلع کرتے رہے۔آخر کار حضرت جی دامت برکاتہم نے 2003ء میں اجازت و خلافت کی ذمہ داری سونپی۔

افتاء کی خدمات:

ٍ1- اشاریہ فتاویٰ شامی کو "فتح الغفار" کے نام سے لکھا، جو حضرت جی کے بقول ایک بہت بڑا کام ہے۔جس کی وجہ سے"فتاویٰ شامی" میں مسئلہ ڈھونڈنے میں بہت آسانی پیدا ہوگئی ہے۔

2-"آداب فتوی نویسی" جس میں فتویٰ لکھنے کا طریقہ اور سلیقہ بتایا گیا ہے۔متحصصین کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

تدریسی خدمات:

تدریسی خدمات میں بخاری شریف اور ہدایہ شریف کا درس بہت مشہور ہے۔جس کے لیے طلبا دور دراز سے کھنچ کھنچ کر آتے ہیں۔"درس جغرافیہ قرآنی" کا بھی درس دیتے ہیں۔

قرآن حکیم کی خدمات:

قرآن حکیم کی خدمات کے سلسلے میں "قرآنی عربی کورس" بہت مقبول کتاب ہے۔معاشرے کے مختلف طبقات میں اس کورس کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔یہ کورس زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کروانا چاہیے، تاکہ قرآن سمجھنا سمجھانا آسان ہوسکے اور پھر اس پر عمل کرنا بھی آسان ہوسکے۔

مغوی تو ملیں گے تمہیں شیطان سے بہتر

ہادی   نہ  ملے  گا  کوئی  قرآن  سے  بہتر

صحافت میں خدمات:

"ضرب مومن" میں عرصہ دراز سے مستقل کالم لکھ رہے ہیں جو کہ اب مختلف کتابی شکلوں میں بھی چھپ چکے ہیں۔جن میں دجال سیریز کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔علماء کرام کو صحافت کی تربیت دینے کے لیے ایک سالانہ کورس بھی ترتیب دیا ہے۔

عربی زبان کی خدمات:

حفاظ کرام کو ابتدا ہی سے عربی سکھانے کے لیے عربی بول چال کا ایک کورس ترتیب دیا ہے اور علماء کرام کے لیے عربی بول چال  میں مہارت  پیدا کرنے کے لیے مختلف عرب علماء کے ساتھ مل کر ایک سالانہ کورس کرواتے ہیں۔حضرت مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ آپ کو مختلف قسم کے تخصصات کروانے کی وجہ سے "بابائے تخصص" کے نام سے یاد فرماتے تھے۔

مختلف شرعی تربیتی پروگرامز:

حج پروگرام، زکوٰ تربیتی پروگرام، رؤیت ہلال کے متعلق مباحث،نقشوں اور پروجیکٹر کی مدد سے بہت دلچسپ اور آسان انداز سے سمجھاتے ہیں۔

تصنیفی خدمات:

حضرت مفتی صاحب تقریباً 25 کتابیں مختلف موضوعات پر لکھ چکے ہیں، جن میں

"خواتین کا معلم،تسہیل بہشتی زیور،بسنت کیا ہے؟،تسہیل السراجی، حاشیہ شرح عقود، آدابِ فتویٰ نویسی، ارض حرمین،حج کیا ہے؟، عمرے کا طریقہ،آثار مقدسہ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

نسبت کی خدمات:

نسبت کی اشاعت کے لیے وقتاً فوقتاً اصلاحی بیانات فرماتے رہتے ہیں۔آس اکیڈمی لاہور،دارالعلوم تعلیم و تربیت حاصل پور میں سلسلہ کی خدمت کے لیے مختلف اوقات میں تشریف لے جاتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

حضرت مولانا صاحبزادہ حبیب اللہ مدظلہ (جھنگ)


حضرت جی کے بڑے صاحبزادے ہیں۔وفاق المدارس کے فارغ التحصیل عالم ہیں۔مدرسہ میں تدریس بھی کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ معہد الفقیر کے اتظامی امور کی ساری ذمہداری آپ ہی کے کندھوں پر ہے۔جامع مسجد زینب معہد الفقیر کے خطیب بھی ہیں اور حضرت جی دامت برکاتہم کے انداز میں بیان کرتے ہیں۔

شروع ہی سے حضرت جی دامت برکاتہم کی تربیت میں رہے ہیں۔ذکر و فکر کی پابندی کرتے ہیں۔زیمبیا اعتکاف میں حضرت جی نے خصوصی توجہات اور شفقتوں سے نوازا۔2009ء کے سالانہ اجتماع کے اختتام پر اجازت و خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی۔

صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت جی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ آپ میری طرف  بعیت کرلیا کریں۔نسبت کے کام کے سلسلے میں مختلف شہروں میں بیان فرماتے رہتے ہیں۔حضرت مولانا عاطف صاحب کے ہاں بیان بھی فرمایا اور لوگوں کو سلسلے میں بھی داخل فرمایا۔اس کے علاوہ حاصل پور میں بھی بہت سے لوگ آپ کے ذریعے سلسلے میں داخل ہوئے۔ضلع بنوں میں بھی بیان کرچکے ہیں۔راولپنڈی ، اسلام آباد میں بھی کئی جگہ بیان فرما چکے ہیں۔معہد الفقیر میں بھی مختلف آنے والے لوگوں سے اصلاح و تربیت کی بات کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بیش از بیش نسبت کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مکمل تحریر >>

حضرت مولانا صاحبزادہ سیف اللہ مدظلہ (جھنگ)


حضرت جی دامت برکاتہم کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔بڑی ہی استعداد اور صلاحیتوں کے مالک ہیں۔حضرت جی دامت برکاتہم کی بہت زیادہ صحبت اٹھائی ہے۔سفروں میں بھی سائے کی طرح ساتھ رہتے ہیں۔حضرت جی کی تعلیمات کو بھی نوٹ کرتے رہتے ہیں۔مطالعہ کا بھی اعلٰی ذوق ہے۔ایک بہت بڑی ذاتی لائبریری بھی قائم کی ہے۔تصنیف و تالیف کا بھی ذوق ہے۔اب تک کئی فائدہ مند کتابیں تحریر کر چکے ہیں۔

شروع ہی سے حضرت جی دامت برکاتہم کی تربیت میں رہے ہیں۔ذکر و فکر کی پابندی کرتے ہیں۔زیمبیا اعتکاف میں حضرت جی نے خصوصی توجہات اور شفقتوں سے نوازا۔2009ء کے سالانہ اجتماع کے اختتام پر اجازت و خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی۔

راولپنڈی اسلام آباد میں کئی مساجد اور جامعات میں بیان کرچکے ہیں۔جھنگ میں بھی بیان کرتے رہتے ہیں۔سالانہ اجتماع پر بھی آپ کا بیان ہوتا ہے۔زیمبیا میں بھی عصر کے بعد بیان کرتے ہیں۔آپ کو دعا کروانے کا عمدہ ذوق حاصل ہے، زیمبیا اعتکاف میں بھی مختلف موقعوں پر دعائیں کرواتے رہتے ہیں۔دعائیں بھی پر تاثیر کرواتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, March 1, 2016

علمائے دیوبند کا تاریخی پس منظر حصہ اول

ظاہری اور باطنی علوم کا سنگم:
جس طرح ہمارا روحانی رشتہ سینہ بہ سینہ نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام تک پہنچتا ہے اور شجرہ کہلاتا ہے اسی طرح ہمارا علمی تسلسل بھی ہے جو اکابرین علمائے دیوبند سے ہوتا ہوا نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام تک پہنچتا ہے۔ہمارے اکابرین علمائے دیوبند علمی اور روحانی دونوں نسبتوں کے حامل کامل تھے۔جب درس حدیث دینے بیٹھتے تو عسقلانی اور قسطلانی نظر آرہے ہوتے تھے اور جب کبھی مسند ارشاد پر بیٹھتے تھے تو جنید اور بایزید نظر آتے تھے۔اللہ رب العزت نے ان کو دونوں علوم سے نوازا تھا۔وہ حقیقت میں "مرج البحرین"تھے۔وہ ظاہری علوم اورباطنی علوم کا سنگم تھے۔ان کی قربانیوں کی وجہ سے انگریز کے دور میں بھی دین محفوظ رہا ہے۔اسی بنا پر ہم آج اس دین پر عمل کرنے کے قابل ہیں۔
علمی ورثہ کی حفاظت:
دنیا کے دوسرے ممالک کو دیکھئے البانیہ ، بوسنیا ا ور کوسووا جہاں پر غیر مسلموں نے غلبہ کیا وہاں مسلمانوں کی زندگیوں میں سے علم بالکل ختم ہوگیا تھا۔حتٰی کہ وہاں لوگوں کو کلمہ پڑھنا بھی نہیں آتا تھا۔جب کہ اس برصغیر میں انگریز کی دوسو سال کی حکومت بھی ہم  سے علمی ورثہ نہ چھین سکی۔یہ دین والی نعمت باقی رہی اور الحمد للہ آج ہم اس دین کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔
فرنگی تہذیب کے خلاف کاروائیاں:
یہ حفاظت بھلا کیسے ہوئی؟اس کے پیچھے لاکھوں علماء کی قربانیاں موجود ہیں۔کچھ عشاق تو وہ تھے جو جان کے نذرانے پیش کر گئے اور کچھ وہ تھے کہ جنہوں نے فرنگی تہذیب کے خلاف زندگی گزار کر یا پابند سلاسل ہو کر مشکلات میں زندگی گزاری مگر دین کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔چٹائیوں پر بیٹھنے والے ان حضرات نے اپنے لئے بھی غربت برداشت کی اور اپنی اولاد کے لئے بھی مگر دین کی حفاظت کر گئے۔ہر طالب علم کو اپنے اسلاف کی اس تاریخ کا علم ہونا ضروری ہے۔علماء حضرات تو پہلے ہی جانتے ہیں تاہم اپنا سبق یاد کرنے کی خاطر یہ عاجز آج اپنے ان اسلاف کی باتیں عرض کرے گا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد:
1601ء میں انگریز کا ایک قافلہ واسکوڈے گاما کی سربراہی میں بمبئی کے ساحل پر اترا اور اس نے مغل بادشاہوں سے کہا کہ ہم  یہاں پر تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ان کی مادی ترقی نے وقت کے حکمرانوں کو بڑا متاثر کیا۔چنانچہ انہوں نے دل کھول کر ان کو خوش آمدید کہا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر ایک فرم بنی جس کے دفاتر مختلف علاقوں میں کھولے گئے۔100 سال کے عرصے میں اس کی تجارت اتنی چمکی کہ اکثر و بیشتر تجارتی معاملات ا س کی مٹھی میں آگئے۔
انتظامی امور و مداخلت:
جب انگریز نے دیکھا کہ تجارت پر اس نے قابو پالیا ہے تو اس نے انتظامی امور میں بھی دخل شروع کر دیا۔چنانچہ 1701ء تک ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پرچم لہرا رہے تھے۔انگریز چھوٹے چھوٹے علاقوں کا نظام اپنے ہاتھوں میں لے رہے تھے۔ظاہر میں تجارت تھی لیکن اندر نیت یہ تھی کہ ہمیں بالآخر اس ملک پر قابض ہونا ہے۔فرنگی ان کاموں کو اتنی چالاکی ، عیاری اور ہوشیاری سے کر رہا تھا کہ وقت کے حکمرانوں نے اس کا ادراک نہ کیا۔1740 ء تک انگریز چار مختلف صوبوں کا گورنر بن چکا تھا۔قدرت کے کچھ فیصلے ہوتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت:
ایک طرف فرنگی کوششیں اتنی زیادہ ہورہی تھیں تو رب کریم نے دوسری طرف ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک بندے کو پیدا کیا۔چنانچہ دہلی کے ایک بزرگ عالم شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں ایک بیٹا ہوا۔جن کا نام انہوں نے ولی اللہ رکھا۔انگریز وں کے اس ملک میں آنے کے پورے ایک سو سال بعد  1703ء میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ہوئی۔
اکتساب علم:
جب اپنی جوانی کی عمر کو پہنچے تو مقامی علماء سے جو علم حاصل کرنا تھا کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور انہوں نے وہاں شیخ ابو طاہر مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے علم حاٖصل کیا۔شاہ ولی اللہ وہ عالم دین ہیں جہنوں نے سب سے پہلے قرآن مجید  کا فارسی ترجمہ کیا۔جن کی کتابیں "حجۃ اللہ البالغہ ، تفہیمات الٰہیہ ، فیوض الحرمین ، اکثر علماء کی نظروں سے گزری ہوں گی۔انہوں  نے حرمین شریفین سے واپس ہندوستان آکر باقاعدہ دین کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا۔
شاہ ولی اللہ  رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے:
اللہ رب العزت نے انہیں فرزند ارجمند عطا کئے۔شاہ عبدالعزیز ؒ ، شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ عبدالغنیؒ اور شاہ رفیع الدینؒ یہ سب آفتاب و ماہتاب تھے۔"ایں خانہ ہمہ آفتاب است" کے مصداق تھے۔شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے اردو زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ کیا۔1762 ء میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کی وفات ہوئی۔
انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ:
اس کے بعد ان کے بڑے فرزند شاہ عبدالعزیز ؒ ان کی مسند پر بیٹھے۔شاہ عبدالعزیز ؒ کو اللہ رب العزت نے فراست مومنانہ عطا کی تھی۔اِتَّقُوْا فَرَاسَۃُالْمُؤْمِنِ فَاِنَّہُ یَنْظُرُ بِنُوْرِاللہِ۔انہوں نے محسوس کر لیا کہ فرنگیوں کے ارادے خطرناک ہیں۔یہ ہم سے فقط ہماری دنیا ہی نہیں لینا چاہتے بلکہ ہمارا دین بھی چھیننا چاہتے ہیں۔چنانچہ 1772ء میں شاہ عبد العزیز ؒ نے فرنگیوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا کہ ان کو ملک سے نکالو اور آزادی حاصل کرو کیوں کہ یہ مسلمانوں کے اوپر فرض ہو چکا ہے۔
فتویٰ کا نتیجہ:
چنانچہ 1772ء کے اس فتوے کے بعد جتنی بھی آزادی کی تحریکیں چلیں وہ دراصل اس فتویٰ کا نتیجہ تھا۔تحریک ریشمی رومال، جنگ آزادی ، تحریک ترک موالات اور تحریک بالاکوٹ یا اس طرح کی جتنی بھی کوششیں تھیں وہ سب کی سب شاہ عبد العزیز ؒ کے فتویٰ کا نتیجہ تھیں۔مسلمانوں کے اندر ایک شعور پیدا ہونا شروع ہوگیا کہ فرنگی لوگ فقط اپنی تجارت ہی نہیں چمکا نا چاہتے بلکہ اپنی تہذیب کو بھی یہاں پر ٹھونس کر اپنا طرز زندگی بھی دینا چاہتے ہیں۔اس شعور کے پیدا ہونے کے بعد دوسرے علمائے کرام نے بھی اس حقیقت کو محسوس کیا کہ ہمیں فرنگی سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔
معرکئہ سرنگا پٹم:
چنانچہ 1792ء میں سرنگا پٹم میں حیدر علی کے بیٹے سلطان ٹیپو نے انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی۔یہ دل میں دین کا درد رکھنے والا بندہ تھا۔وہ اپنے کئی فوجیوں کو لے کر انگریز کے ساتھ نبرد آزما ہوا مگر اس کی فوج کے اندر ایک منافق بھی تھا جس کا نام میر صادق تھا۔انگریزوں نے میر صادق کو 900 مربع زمین دینے کا وعدہ کیا۔چنانچہ میر صادق کی منافقت کی وجہ سے سلطان ٹیپو کو شہادت نصیب ہوئی اور مسلمانوں کو فتح نصیب نہ ہو سکی۔
جنگ پلاسی:
جب انگریزوں نے میسور پر قبضہ کر لیا تو وہ بڑے مطمئن ہوئے کہ چلو مسئلہ حل ہوگیا۔مگر اس کے بعد نوب سراج الدولہ نے انگریزوں کے ساتھ پلاسی کی جنگ لڑی۔اس کی فوج میں بھی ایک منافق تھا جس کا نام میر جعفر تھا۔اس کو انگریز نے حسب عادت مال و دولت کا لالچ دیا تو اس نے سارے راز ان کو بتلادیئے۔چنانچہ 22 گھنٹے کے اند یہ جنگ پلاسی بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچی اور انگریز اس میں بھی غالب رہا۔
رنجیت سنگھ کی تعیناتی:
جب انگریز نے میسور اور پلاسی کی یہ جنگیں جیت لیں تو اس نے سوچنا شروع کر دیا کہ یہ تحریکیں کیوں کھڑی ہو رہی ہیں۔ان کا کچھ پکا بندوبست کرنا چاہیئے تاکہ آئندہ ہمارے خلاف کوئی تحریک کھڑی ہی نہ ہو سکے۔چنانچہ اس نے مسلمانوں کے اوپر اپنا شکنجہ کسنا شروع کر دیا۔لیکن اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ اگر میں مسلمانوں پر بلاواسطہ مظالم ڈھاؤں گا تو وہ انگریزوں کے اور زیادہ مخالف بن جائیں گے۔چنانچہ 1824ء میں اس نے رنجیت سنگھ کو پنجاب کا گورنر بنا دیا۔
رنجیت سنگھ کے مظالم:
رنجیت سنگھ نے انگریز کے اشارے پر مسلمانوں کا وہ برا حشر کیا کہ جس کوپڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔علماء کو قتل کیا، مسلمانوں کی عورتوں کو بے آبرو کیا، ان کی جائیدادیں اور املاک کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔جس طرح سے بھی وہ مسلمانوں کو پریشان کر سکتا تھا اس نے کرنے میں کوئی کمی نہ کی۔2 سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
سید احمد شہید ؒ کا جہاد:
بالآخر دل میں دین کا درد رکھنے والے ایک بزرگ سید احمد شہید ؒ نے دیکھا کہ اب کسی نہ کسی کو قربانی دینا ہوگی تاکہ مسلمانوں کو ان مصیبتوں سے نجات مل سکے۔لہذا وہ اور ان کے شاگرد اسماعیل شہیدؒ جن کے ساتھ تقریباً 900 کے قریب مجاہدین اور 100000 مریدین تھے۔انہوں نے انگریز کے خلاف قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور درۂ خیبر کے راستے پشاور کے اندر داخل ہوئے۔پہلے حملے میں سید احمد شہید ؒ نے پشاور کو فتح کر لیا۔
شاہ اسماعیل شہیدؒ کا جہاد
اس کے بعد شاہ اسماعیل شہیدؒ نے پشاور کے چوک میں کھڑے ہو کر شریعت کے نٖفاز کا  اعلان کیا، شراب کی بندش کا اعلان کیا، یہ یکم مئی اتوار کا دن تھا۔عجیب بات یہ ہے کہ 1972ء میں حضرت مفتی محمود ؒ جو انہی کے روحانی فرزند تھے جب اللہ رب العزت نے ان کو وہاں کا چیف منسٹر بنایا تو انہوں نے بھی پشاور کی اسی جگہ پر شراب کی بندش کا اعلان کیا وہ بھی یکم مئی اتوار کا دن تھا۔پشاور پر فتح حاصل کرنے کے بعد سید احمد شہید ؒ کا یہ قافلہ آگے بڑھا شنکیاری اور اکوڑہ خٹک کو فتح کرتے ہوئے بالاکوٹ کی طرف بڑھا۔
سید احمد شہید ؒ کا دو ٹوک جواب:
پنجاب کے گورنر رنجیت سنگھ نے پیغام بھیجا کہ اٹک سے ادھر کا علاقہ تم سنبھالو اور ادھر کا علاقہ ہم سنبھالتے ہیں۔سید احمد شہید ؒ نے فرمایا کہ مجھے زمین کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کے دین کی ضرورت ہے۔میں تو دین کی حفاظت کے لئے یہ قدم اٹھا چکا ہوں۔میں اپنے قدم بڑھاؤں گا یا تو مجھے فتح نصیب ہوگی یا پھر مجھے شہادت نصیب ہوگی۔
دو جرنیلوں کی شہادت:
چنانچہ انگریز کی ایماء پر رنجیت سنگھ نے اپنی فوج لے کر وہاں مقابلے کے لئے آگیا۔بالاکوٹ کے قریب سید احمد شہید ؒ نے پڑاؤ ڈالا ہوا تھا۔انگریز نے مقامی دیہاتیوں کو لالچ دے کر ان سے معلومات حاصل کیں اور تہجد کی نماز پڑھتے ہوئے سید احمد شہید ؒ کو شہید کر دیا۔5 مئی کو سید احمد شہید ؒ کی شہادت ہوئی تو شاہ اسماعیل شہید ؒ نے پھر انگریز سے جنگ کرنی شروع کردی۔چار دن یہ معرکہ ہوتا رہا۔حتیٰ کہ 9 مئی کو شاہ اسماعیل شہید ؒ بھی شہید کر دئے گئے۔یہ وہ حضرات ہیں جن کی قبور آج بھی بالاکوٹ میں موجود ہیں۔
شاہ اسماعیل ؒ کی کرامت:
تاریخ میں ایک عجیب واقعہ لکھا ہوا ہے کہ جب شاہ اسماعیل شہیدؒ چاروں طرف سے گھیر لئے گئے تو ایک سکھ نے نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کے الفاظ کہے اور دوسرے نے ان کے اوپر تلوار تان لی۔شاہ اسماعیل شہید ؒ کے دل میں عشق رسالت کی ایسی کیفیت تھی کہ آپ ان نازیبا الفاظ کو سن کر تڑپ اٹھے اور آپ نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میں تیرا کام تمام نہیں کر لوں گا۔یہ کہہ کر آپ نے اس کے اوپر خنجر لہرایا مگر دوسرے سکھ نے آپ پر تلوار کا وار کیاآپ کا سر آپ کے تن سے جدا ہو کر گر گیا۔عجیب بات ہے کہ بدن چوں کہ حرکت میں آچکا تھا اور ہاتھ میں خنجر تھا لہذا بدن بغیر سر کے اس کے پیچھے بھاگتا رہا۔جب سکھ نے دیکھا کہ بغیر سر کے یہ بدن میری برف بھاگ رہا ہے تو وہ ڈر کے مارے پیچھے گرا۔آپ اس کے اوپر گرے اور آپ کا خنجر اس کے سینے میں پیوست ہوگیا۔اس طرح آپ کی قسم اللہ رب العزت نے پوری فرما دی۔حدیث پاک میں آتا ہے کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے ہاں ان کا وہ مقام ہوتا ہے کہ جب وہ قسم کھا لیا کرتے ہیں تو اللہ رب العزت ان کی قسم کو پورا کردیاکرتےہیں۔لواقسم علی اللہ لابرہ۔
انگریز کے خلاف علمائے دیوبند کا مشورہ:
جب انگریز اس میدان میں بھی غالب آگیا تو بقیہ علماء نے 1856ء میں آپس میں مشورہ کیا کہ انگریز کے خلاف ہمیں کوئی اور قدم اٹھانا چاہیے۔چنانچہ اس میں مولانا جعفر تھانیسری ، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، حضرت رشید احمد گنگوہی ،مولانا قاسم نانوتوی رحمۃاللہ علیہم اجمعین وغیرہم حضرات موجودتھے۔مشورے میں یہ بات آئی کہ ہماری افرادی قوت بہت کم ہے، ہم انگریز کے خلاف کیسے لڑسکتے ہیں۔اس موقع پر حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ نے کھڑے ہو کر کہا کہ کیا ہماری تعداد غازیان بدر سے بھی تھوڑی ہے؟آپ کے ان الفاظ سے دوسرے علماء کے اندر بھی شہادت کا جذبہ جاگ اٹھا چونکہ کہ 313 کی تعداد سے تو زیادہ تھے چنانچہ فیصلہ ہوا کہ جو مرضی ہو ہمیں انگریز کے خلاف جہاد کرنا ہے۔
جنگ آزادی:
سال بھر اس مشورہ پر عمل درآمد کی تیاری ہوتی رہی۔چنانچہ 1857ء میں جنگ آزادی لڑی گئی، اس کے دو محاذ بنائے گئے ایک محاذ انبالہ میں جس کے قائد مولانا جعفر تھانیسری تھے اور دوسرا محاذ شاملی میں جس کے سپہ سالار حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ تھے۔مقابلہ ہوا، حافظ ضامن ؒ کو شہادت بھی ملی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کو زخم بھی آئے چوں کہ انگریز تعداد میں بہت زیادہ تھا اس لئے انگریز کا پلہ بھاری رہا اور علماء کو پھر بھی فتح نصیب نہ ہو سکی۔
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ  تو    دل    ناتواں    نے    خوب   کیا
جب یہ مختلف واقعات پیش آئے تو وائسرائے سے برطانیہ کے حکمران نے یہ پوچھا کہ آخر کیا بات ہے کچھ دنوں کے بعد کوئی نہ کوئی تحریک شروع ہوجاتی ہے۔مجھے اس کی وجوہات بتاؤ تاکہ اس کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جا سکے۔چنانچہ انہوں نے برطانیہ سے اپنے مبصرین اور تجزیہ نگار بلائے جنہوں نے آکر حالات کا جائزہ لیا اور کہا کہ اس وقت تک تحریکیں اٹھتی رہیں گی جب تک ان تین چیزوں کو ختم نہ کر دیا جائے۔
٭سب سے پہلے قرآن مجید کو ختم کرنا چاہئے۔
٭علمائے کرام کو ختم کرنا چاہئے۔
٭جذبۂ جہاد کو ختم کرنا چاہئے۔
یہ تین باتیں لب لباب تھیں۔
علمائے کرام کا قتل:
چنانچہ انگریز نے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا تین سال کے اندر قرآن پاک کے تین لاکھ نسخے نذر آتش کر دئے اور 14000 علمائے کرام کو پھانسی دی گئی۔
تھامسن اپنی تاریخ میں لکھتا ہے کہ دہلی سے لے کر پشاور تک جرنیلی سڑک کے دونوں طرف کوئی بڑا درخت ایسا نہیں تھا جس پر کسی عالم کی لاش لٹکتی نظر نہ آرہی ہو۔بادشاہی مسجد میں پھانسی کا پھندہ لٹکایا گیا اور دیگر مسجدوں کے اندر علمائے کرام کو پھانسی دی گئی۔
تھامسن اپنی یاداشت میں لکھتا ہے کہ میں دہلی گیا تو کیمپ میں ٹھہرا ہوا تھا۔مجھے وہاں انسانی گوشت کے جلنے کی بدبو محسوس ہوئی۔میں پریشان ہو کر اٹھا کہ یہ کیا معاملہ ہے جب کیمپ کے پیچھے جا کر دیکھا تو کچھ انگریزوں نے انگارے جلائے ہوئے تھے اور چالیس علماء کو بے لباس کر کے ان انگاروں کے پاس کھڑا کیا ہوا تھا اور انہیں یہ کہا جارہا تھا کہ تم ہمیشہ کے لئے ہمارا ساتھ دینے کا وعدہ کرو نہیں تو تمہیں انگاروں پر لٹا دیں گے۔انہوں نے انکار کیا تو چالیس علماء کو انگاروں پر لٹا دیا گیا۔یہ ان کے گوشت جلنے کی بدبو تھی۔جو خیموں میں بھی محسوس ہورہی تھی۔وہ کہتا ہے کہ اسی طرح چالیس علماء شہید ہوگئے تو پھر چالیس اور علماء کو بھی اسی طرح اوپر لٹایا گیا۔
مولانا احمد اللہ گجراتی کا جواب
مولانا احمد اللہ گجراتی ؒ بڑے عالم تھے۔ایک انگریز نے ان سے کچھ عربی سیکھی تھی وہ انگریز اس وقت ان لوگوں میں سے تھا جو مسلمان علماء کو پھانسی دے رہے تھے۔اس نے مولانا احمد اللہ گجراتی ؒ سے کہا کہ آپ میرے استاد ہیں، آپ صرف زبان سے کہہ دیں کہ میں اس تحریک آزادی میں شریک نہ تھا میں آپ کا نام پھانسی دینے والوں میں سے نکال دوں گا۔احمد اللہ گجراتی ؒ نے جواب دیا کہ میں یہ بات کرکے اللہ رب العزت کے دفتر سے نام نکلوانا نہیں چاہتا۔سبحان اللہ
تو ان حضرات نے اپنی جان کے نذرانے تو پیش کر دئے مگر انگریز کا ساتھ دینے پر تیا ر نہ ہوئے۔
ظلم کی انتہا:
مولانا تھانیسری ؒ اپنی کتاب "تاریخ کالاپانی"میں لکھتے ہیں کہ ہم کئی علماء تھے جن کو گرفتارکرکے امرتسر جیل میں رکھا گیا پھر فیصلہ کیا گیا کہ ان کو لاہور بھیج دیا جائے۔جب لاہور بھیج دیا گیا تو یہاں کے حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ ان کو سزا دی جائے تاکہ ان کی وجہ سے دوسروں کو بھی عبرت حاصل ہو۔وہاں کا انگریز حکمران اتنا ظالم تھا کہ اس نے لوہے کے پنجرے بنوائے جن کے چاروں طرف اس نے لوہے کی کیلیں لگوائیں اور اس کے اندر جگہ اتنی تھوڑی تھی اس میں ایک آدمی فقط بیٹھ سکتا تھا۔جب آدمی اندر بیٹھتا تو اس کی چاروں طرف کیلیں ہوتیں۔علمائے کرام کو ان پنجروں کے اندر بند کرکے ریل کے ڈبے میں ان پنجروں کو رکھ دیا گیا۔اس طرح ان کو لاہور سے ملتان پہنچایا گیا۔فرماتے ہیں کہ ریل کے ڈبے کو جھٹکے لگتے تو ہم کبھی ادھر گرتے کبھی اُدھر گرتے تو ہمارے کبھی اس طرف کیلیں چبھتیں اور کبھی اُس طرف۔جسم کے چاروں طرف کیلوں کی وجہ سے زخم بن گئے جن سے خون جاری رہتا۔
تین مہینے کے اندر ہمیں لاہور سے ملتان پہنچایا گیا۔کئی کئی ہفتے یہ بوگیاں کھڑی رہتیں اور ہماری پروا ہی نہ کی جاتی ہم گرمی میں پسینے کی وجہ سے پریشان ہوتے۔کبھی گرمی میں پیاس کی شدت کی وجہ سے تڑپتے اور کبھی اپنے زخموں کی وجہ سے پریشان ہوتے۔لگانے کے لئے مرہم بھی کوئی نہیں ہوتا تھا۔اور ہمیں اتنی تکلیف میں رکھا گیا کہ ہم اس کی حقیقت الفاظ میں بیان ہی نہیں کر سکتے۔
تین مہینے ان کیلوں والے پنجروں میں رہ کر آخر ہم ملتان پہنچے وہاں ہمیں انگریز نے نکالا اور بتا دیا کہ ہمارے لئے پھانسی کا حکم ہوچکا ہے۔جب ہم نے پھانسی کا حکم سنا تو ہمارے چہروں کے اوپر تازگی آگئی کہ الحمدللہ اب منزل قریب ہے۔
اگلے دن جب انگریز آیا تو اس نے دیکھا کہ علمائے کرام کے چہروں پر بڑی تازگی ، بڑی رونق اور بڑا اطمینان ہے۔اس نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آج تمہارے چہرے پر بڑا سکون نظر آرہا ہے۔ایک عالم نے کہا اس لئے کہ ہماری شہادت کا وقت قریب ہے۔جب انگریز نے یہ سنا تو وہ سوچنے لگ گیا۔چنانچہ اس نے فوراً اپنے افسر سے رابطہ کیا کہ ان کو پھانسی دیں گے تو اس پر یہ خوشیاں منا رہے ہیں اور ہم ان علماء کو خوش نہیں دیکھ سکتے۔چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کو ساری عمر کے لئے کالاپانی کے اندر نظر بند کیا جائے۔چنانچہ اعلان ہوا کہ پھانسی کا فیصلہ واپس لیا جاتا ہے۔اس موقع پر مولانا تھانیسری ؒ نے ایک عجیب شعر لکھا:
مستحق   دار   کو   حکم   نظر   بندی   ملا
کیا کہوں کیسے رہائی ہوتے ہوتے رہ گئی

کہ اگر شہادت نصیب ہوجاتی تو رہائی ہوجاتی۔سبحان اللہ، شہادت کی خاطر کتنا تڑپنے والے لوگ تھے۔
جذبۂ جہاد ختم کرنے کی ناکام کوشش:
چنانچہ انگریز نے علماء کو پھانسی دینے کے بعد تیسرا کام یہ کیا کہ اس ملک کے اندر کچھ ایسے فرقے دین کے نام پر پیدا کئے جنہوں نے فتویٰ دیا کہ انگریز کے خلاف جہاد کرنا حرام ہے۔اس تاریخ کے پس منظر میں یہ سب باتیں سمجھنی آسان ہوجائیں گی کہ انگریز کا ساتھ دینے والے کون تھے؟یعنی میر جعفر اور میر صادق کون تھے جنہیں مربعے الاٹ ہوگئے۔آپ کو بڑے بڑے زمیندار ملیں گے جن کی تاریخ انگریزوں تک ملے گی اور جو حضرات قربانیاں دینے والے ملیں گے ان کی تاریخ ہمارے اسلاف کے ساتھ جا کر ملے گی چنانچہ انگریز نے ان تینوں باتوں پرعمل درآمد کیا۔قرآن مجید کے نسخے ضائع کئے۔علمائے کرام کو شہید کیا اور اس امت سے جذبۂ جہاد کو ختم کرنے کے لئے جہاد کی حرمت پر فتوے جاری کروائے۔
دس ہزار مدارس بند:
مختلف مدارس اس وقت وقف کی جائیداد سے چلا کرتے تھے۔چنانچہ انگریز نے وقف کی تمام املاک کو اپنے قبضے میں لے لیا اور یوں گویا مدارس کی شہ رگ کو کاٹ دیا گیا۔چنانچہ فقط دہلی شہر میں ایک ہزار مدارس بند ہوگئے۔بڑے بڑے مدارس کی تعداد دس ہزار تھی جن کو بند کر دیا گیا۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے مدرسہ رحیمیہ پر بلڈوزر پھیر دیا گیا اور بالکل برابر کردیاگیا۔انگریز اپنی طرف سے پورا بندوبست کر چکا تھا۔اس میں اس کو کئی سال لگ گئے۔(جاری ہے۔۔۔۔)
مکمل تحریر >>