Friday, March 4, 2016

حضرت مولانا شیخ اظہر اقبال مدظلہ (کراچی)


بنیادی طور پر آپ کا تعلق کراچی سے ہے۔حضرت مولانا شیخ اظہر صاحب نے درس نظامی  معہد الفقیر سے مکمل کیا ہے۔وفاق المدارس کے فاضل ہیں۔معہد الفقیر میں مختلف ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے سرانجام دیتے رہے ہیں۔نعت رسول مقبولﷺ بڑے مسحور کن انداز میں سناتے ہیں، بعض اوقات خود بھی روتے ہیں اور سامعین کو بھی رلاتے ہیں۔آپ کی نعت کا فیضان مختلف شہروں تک پہنچ چکا ہے۔حضرت جی دامت برکاتہم کی کثیر صحبت اٹھائی ہے۔تصوف و سلوک کو انتہائی ذوق و شوق سے سیکھا ہے۔آپ کا اخلاق بہت عمدہ ہے۔مسکرا کر بات کرتے ہیں۔حضرت جی دامت برکاتہم سے والہانہ محبت ہے۔جس کی وجہ سے حضرت جی بھی آپ پر بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔معمولات وغیرہ بھی پابندی سے کرتے ہیں۔اپنے اسباق کے بارے میں بھی حضرت جی سے مشورہ کرتے رہتے ہیں۔حضرت جی نے بھی آپ کی خصوصی تربیت کی ہے۔آخرکار آپ پر اعتماد کرتے ہوئے آپ کو اجازت و خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی۔کراچی اور گردونواح کے شہروں میں آپ نے نسبت کے کام کو بہت پھیلایا ہے۔آپ کے ہزاروں مریدین ہیں۔انگریزی پڑھے لکھے طبقے کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔
مکمل تحریر >>

حضرت مولانا اسلم پوریؒ (لاہور)


ابتدائی دور میں حضرت جی دامت برکاتہم سے بیعت ہوئے۔پھر کافی عرصہ جھنگ آنا جانا رہا۔حضرت جی کو اپنے حالات سے مطلع کرتے رہے۔اجتماع پر پابندی سے تشریف لاتے رہے۔حضرت جی دامت برکاتہم کی بات ماننے میں لاجواب تھے۔ہمیشہ اپنے شیخ کی منشا کو مدنظر رکھتے تھے۔2011ء کے نقشبندی اجتماع کے موقع پر آپ کو اجازت و خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی۔راقم الحروف کے گھر میں خصوصی مراقبے کے لیے تشریف لائے۔ان دنوں حضرت جی دامت برکاتہم راولپنڈی میں تشریف فرما تھا۔بہت اعلٰی اور مٹی ہوئی طبیعت کے مالک تھے۔انتہائی عاجزی و انکساری چہرے سے ٹپکتی تھی۔حضورﷺ کی محبت کا غلبہ تھا، جس کی برکت سے مدینہ شریف میں 2012ء کے رمضان کے بائیسویں روز ے میں وفات پا گئے اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔حضرت جی دامت برکاتہم بھی جنازے میں شامل ہوئے۔
مکمل تحریر >>

حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم مدظلہ (لاہور)

بنیادی طور پر کراچی کے رہنے والے ہیں۔آپ حافظ قرآن ہیں۔کافی عرصہ حضرت جی سے تعلق رکھا،اپنی اصلاح و تربیت کے لیے رابطہ رکھا۔بڑے متقی نوجوان ہیں۔چائنہ میں جانا ہوا تو وہاں عورتوں سے ڈیلنگ ہوئی، چھ سے آٹھ گھنٹے تک میٹنگ ہوئی، لیکن آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔حضرت جی دامت برکاتہم سے تربیت پاتے رہے۔آخر کار حضرت جی نے اجازت و خلافت کی ذمہ داری سونپی۔نسبت کا کام بڑی سرگرمی سے انجام دے رہے ہیں۔کراچی میں مہینے کے تین دن(جمعہ ہفتہ اتوار) مختلف مساجد میں پروگرام کرتے ہیں، جس سے بہت سی مخلوق خدا کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

مکمل تحریر >>

حضرت مولانا مفتی انعام الحق مدظلہ (انڈیا)


بنیادی طور پر آپ کا تعلق صوبہ بہار انڈیا سے ہے۔آپ نے دورہ حدیث دارالعلوم دیوبند سے 1987ء میں کیا۔دورہ حدیث کرنے کے بعد آپ نے عربی ادب میں ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل کی۔آپ نے تخصص فی الافتاء مدرسہ ریاض العلم جون پور یوپی انڈیا سے کیا۔

آج کل آپ دارالعلوم علی پور نوساری گجرات انڈیا کے دارالافتاء کے رئیس مفتی ہیں۔اس کے علاوہ صحیح مسلم شریف،مشکٰوۃ شریف اور ہدایہ شریف پڑھا رہے ہیں۔آپ نے فقہ اور تصوف کے موضوع پر کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔مثلاً آئینہ اصول حدیث ، رہبر علم حدیث ، مریض کے شرعی احکام، اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات 4جلدیں،مجالس فقیر مبوب وغیرہ شامل ہیں۔

1993ء میں آپ نے شاہ مولانا ابرارالحقؒ سے بیعت کا تعلق قائم فرمایا اور حضرت شاہ صاحبؒ کی وفات تک آپ سے روحانی فیض پاتے رہے۔آپ کی وفات کے بعدآپ نے ڈھاکہ میں حضرت شیخ الطاف حسین مدظلہ سے بیعت کی جو حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ ہیں۔حضرت شیخ الطاف حسین نے آپ کوتصوف کے چاروں سلاسل میں اجازت خلافت عطا فرمائی۔

چاروں سلاسل میں مجاز ہونے کے باوجود آپ نے 2005ء میں حضرت جی دامت برکاتہم سے مکہ مکرمہ بیعت کی۔2007ء میں حضرت دامت برکاتہم نے آپ کو اجازت خلافت کی ذمہ داری سونپی۔

آپ سلسلہ عالیہ کی اشاعت کے لیے تند ہی سے مشغول ہیں اور امت کے ہر طبقے کی اصلاح کی فکر کر رہے ہیں۔اللہ تعالٰی آپ کی کوششوں میں مزید برکتیں عطا فرمائے ۔آمین
مکمل تحریر >>

Thursday, March 3, 2016

حضرت مولانا احمد جان مدظلہ (روس)


آپ حضرت جی دامت برکاتہم کے آزاد ریاستوں میں خلیفہ ہیں۔شاید پہلے دورے میں حضرت جی دامت برکاتہم نے انہیں خلافت کی ذمہ داری سونپی تھی۔حضرت مولانا گل رئیس صاحب جو کہ 1998ء کے دورہ آزاد ریاستوں میں حضرت جی دامت برکاتہم کے ہمراہ تھے، پھر واپسی پر اپنے "دلچسپ سفرنامہ"میں لکھتے ہیں:

حضرت مولانا احمد جان مدظلہ کو کسی نے اطلاع دی کہ حضرت جی دامت برکاتہم پاکستان سے تشریف لائے ہیں۔وہ چار سو کلو میٹر کا سفر طے کرکے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے، راستے ہی میں ملاقات ہوگئی۔حضرت جی دامت برکاتہم نے انہیں جلدی سے گاڑی میں بٹھا لیا اور پھر سفر جاری رکھا۔

دورانِ سفر مفتی احمد جان مدظلہ اور مولانا عبدالحلیم مدظلہ کو "شجرہ طیبہ" اور چھپا ہوا خلافت نامہ عطا فرمایا اور آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد سڑک پر کھڑے ہوکر سب دوستوں کو الوداع کیا۔حضرت جی دامت برکاتہم بڑا قافلہ بننے نہیں دینا چاہتے تھے،کیونکہ کے جی بی کے لوگ ہمیشہ پیچھے لگے رہتے تھے۔مولانا احمد جان اپنے تقویٰ و طہارت کی وجہ سے بہت مقبول ہیں اور وہاں آپ کا فتویٰ چلتا ہے۔حضرت جی دامت برکاتہم کو آپ سے بڑی محبت ہے۔
مکمل تحریر >>